Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Dil Se Dil Tak | Episode 7 | By Sidra Shah - Daily Novels

 




 

 

 

 

 


دل سے دل تک

سدرہ شاہ کے قلم سے

قسط نمبر07

اردو  ورچوئل پبلشرز

 

 

 

 

 

 

 

ہماری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ، شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔

UrduVirtualLibraryPK@gmail.com

+923114976245

ان شاءاللہ آپ کی تحریر ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

شکریہ

ادارہ : اردو ورچوئل لائبریری

 

 

 


 

Text Box: سدرہ شاہدل سے دل تک

Text Box: قسط نمبر07 


ہاہاہا کتنا مزا آیا نا آج کالج میں ۔۔۔ گل لالئ نے ماریہ سے کہا ۔ ہاں یار کچھ زیادہ ہی نیلو فر کی شکل دیکھنے لائق تھی جب وہ سیش اُتار رہی تھی ۔ ماریہ نے مزے سے کہا ۔ اچھا اب شہناز آنٹی کو فون کر لو کیوں کہ آج تم میرے ساتھ جارہی ہو میرے گھر ۔ گل لالئ نے گویا فیصلہ سنایا اسکو ۔ کیوں ۔۔۔ ماریہ نے اچنبھے سے پوچھا ۔ دل کرتا ہے ماری تم کو دادا جان کی بندوق سے اُڑا دے گل لالئ نے غصے سے اسکو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔ اللہ اللہ لڑکی کیا پاگل تو نہیں ہو گئی تم ۔۔ ماریہ نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔ ڈرائیور گاڑی گھر کی طرف لو ۔۔۔ ڈرائیور جو ماریہ کے گھر کی روڈ پر گاڑی لے جارہا تھا ۔۔ گل لالئ کے کہنے پر دوبارہ یو ٹرن لیا ۔۔۔۔ اچھا نا اب بتا بھی دو کہ کیوں لے جارہی ہو مجھے گھر ۔۔ ہمارے گھر میں ایک مالی بابا ہے ۔۔ گل لالئ نے کہا ہاں رحمان بابا پر اس کا یہاں کیا ذکر ۔۔۔ ماریہ نے نہ سمجھی سے گل لالئ کو دیکھ کر کہا ۔۔۔ آرےےےے اسی کا تو ذکر ہے ۔۔۔ گل لالئ نے ایک ہاتھ پر تالی مار کر کہا ۔۔۔ یار کہاوتیں نہ بجھواؤ سیدھی طرح سے بات کرو ۔۔۔ ماریہ نے جھنجلا کر کہا ۔۔۔۔ ہم تمھارا نکاح اس سے کروانے لے جارہا ہے وہاں ۔۔۔ گل لالئ نے جل بھن کر جواب دیا ۔۔۔۔۔ ماریہ کا تو صدمے سے منہ ہی کھل گیا ۔۔۔ منہ بند کرو مکھی چلا جاۓ گا ۔۔۔ گل لالئ نے ماریہ کا منہ بند کیا ۔۔۔ گل لالئ یو سٹوپڈ ۔۔۔ ماریہ نے غصے سے اسکے کندھے پر تھپڑ لگایا ۔۔۔ مار کیوں رہا ہے تمھارا ہی غلطی ہے ۔۔۔ کیا ہم نے تمکو پہلے نہیں بتایا تھا ۔ کہ پارٹی ہے اور تم ہے کہ مزے سے بھول گیا ۔۔۔ گل لالئ نے اسکی سرزنش کی ۔۔۔ ہاں تو انسان ہوں بھول گئی ۔۔ تو تم نے تو میرا نکاح سیدھا مالی بابا کے ساتھ پڑھوانے کا ارادہ کرلیا ۔۔۔ لاحولہ ولا قوۃ ماریہ نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا ۔۔۔ ماریہ اب بھی اسکو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ پر وہ گل لالئ ہی کیا جس پر کوئی اثر ہو ۔۔۔ جواباً وہ بھی خطرناک گھوریوں سے نواز رہی تھی ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں شیرنیاں مقابلے پر اُتر آئی ہوں ۔۔ باپ رےےے میں تو گئی ایسا نہ ہو ان شیرنیوں کی زد میں میں معصوم سی جان(سدرہ شاہ)آجاۓ ۔۔۔۔ تو چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نیکسٹ سین کی طرف ۔۔۔۔۔۔ ۝۝۝۝۝۝۝ ارے سحرش لو نا تمھارا اپنا ہی گھر ہے تکلف نہ برتو ۔۔ عالیہ بیگم کچھ نہ کچھ سحرش کی پلیٹ میں ڈال رہی تھی ۔۔۔ جی دادی لے رہی ہوں ۔۔ ناعیمہ ایوان بے دلی سے کھانے میں شریک تھی ۔۔ ابھی وہ لوگ کھانا کھا رہے تھے کہ آوارہ سیٹی کی دھن بجاتا سالک آیا ۔۔۔۔ السلام علیکم ماممم ۔۔۔ سالک نے زور سے ناعیمہ ایوان کو پیچھے سے ہک کرکے کہا ۔۔۔ ارے میری جان میرا شہزاده ۔۔۔ ناعیمہ ایوان نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔ اور ممتا سے لبريز لہجے میں کہا ۔۔۔ ہیلو سالک ۔۔۔ جب سالک کی نظر سحرش پر پڑھی تو اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا ۔۔۔ چہرے کے تاثرات یکساں بدل گئے ۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔۔" بےزاری سے جواب دیا ۔۔۔ السلام علیکم دادو جانی ۔۔۔ سالک نے عالیہ ایوان کے سامنے سر جھکا کر کہا ۔۔ جیتے رہو میرے بچے ۔۔ عالیہ ایوان نے اسکے جھکے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا ۔۔۔ اوکے مام میں ریسٹ کرتا ہوں سر میں درد ہے ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا ۔۔۔ میں کوفی بناتی ہوں اس کے لیے پریشان نہ ہوں بی جان تھکاوٹ کی وجہ سے سر درد ہورہا ہو گا کوفی پیے گا تو ٹھیک ہو جاے گا ۔۔ ناعیمہ کو پتہ تھا سالک کو اتنا سا بھی کچھ ہو تو عالیہ ایوان پریشان ہو جاتی ہیں ۔۔ اس لے انکو تسلی دے کر وہ چلی گی ۔۔۔ سحرش کا موڈ خراب ہو گیا تھا ۔۔ سالک کا اس طرح اگنور کرنا اسکو ناگوار گزرا ۔۔ سحرش بیٹا بُرا نہ ماننا ہاں سالک کے سر میں واقعی ہی درد ہوگا ۔۔ عالیہ ایوان نے کہا ۔۔ ارے دادی آئی نو سالک ایسا نہیں ہے اچھا ٹھیک ہے میں چلتی ہوں فرینڈز کے ساتھ پارٹی پر جانا ہے آج ۔۔ ٹھیک ہے خیال سے جانا اوکے ۔۔۔۔ اوکے دادی ۔۔۔ ۝۝۝۝۝ ٹھک ٹھک ٹھک ۔۔ آجاوں ۔۔۔ سالک نے کہا۔۔ ارے مام آپ نے کیوں تکلیف کی ملازم لے آتے ۔۔ سالک شرمندہ لہجے میں کہتا کھانے کی ٹرے ناعیمہ کے ہاتھ سے لیکر ٹیبل پر رکھی ۔۔ تم چھوڑو اس بات کو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔ جی مام بولیں میں سن رہا ہوں ۔۔۔ بات یہ ہے ۔۔۔ بڑی بی بی آپکو صاحب جی بلا رہے ہیں ۔۔ ناعیمہ ایوان ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ ملازمہ احمد ایوان کا پیغام لے کر آئی ۔۔ اچھا تم جاؤ میں آتی ہوں ۔۔ سالک میں ابھی آئی ۔۔ یہ کہہ کہ وہ چلی گئیں ۔۔ ۝۝۝۝۝ بہن جی یہ دوسری بار ہوا ہے ہمارے چھت پر سے پرندے غائب ہوجاتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے تھے ہی نہیں ۔۔۔۔ رفعت گل بانو کی پڑوسی تھی ۔۔ السلام علیکم مورے ۔۔۔ گل لالئ اور ماریہ لاؤنج میں آئی ۔ وعلیکم السلام آؤ بیٹھو دونوں ۔۔ السلام علیکم آنٹی ۔۔ ماریہ نے سلام کیا اور صوفے پر گل لالئ کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ رفعت آنٹی کیسا ہیں آپ ۔۔۔ بیٹا یہ پوچھو کیسے نہیں ہو ۔۔ ہمارے چھت پر سے پرندے غائب ہوتے جارہے ہیں ۔۔۔ اور تو اور تالا ویسے کا ویسا ہی لگا ہوتا ہے پر پرندے نہ جانے کیسے غائب ہوجاتے ہیں۔۔ رفعت بیگم نے پریشانی سے کہا ۔ کیا آنٹی سچ میں ۔۔۔ اپنے فلک شگاف قہقہے کو دبا کرمصنوعی حیرانی سے کہا ۔۔۔ ہاں بیٹا ۔۔۔ رفعت بیگم نے کہا ۔۔۔ خفا مت ہونا رفعت پر غلطی بھی تمھاری ہی تھی ۔۔۔ گل بانو نے کہا ۔ لو بھلا میں نہ کیا غلطی کی ۔۔ رفعت بیگم چمک کر بولی ۔۔ ان معصوم بے زبان پرندوں کو تم لوگ چھت پر رکھ کر بھول جاتے ہو اور یہاں تک کہ اسکے کھانے پینے کا بھی کوئی بندوبست نہیں کرتے اور کہتا ہے میرا کیا غلطی ہے ۔۔ 3 بار پرندے بھوک و پیاس سے مر گئے تھے ۔۔۔ بس چھت کی زینت بناتے ہو ارے جب دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو لاتا ہی کیوں ہے تم لوگ ۔۔۔ گل بانو کی بات پر رفعت کی نظریں شرم سے جھک گئیں ۔۔۔ وہ ٹھیک ہی تو کہ رہی تھی ۔۔۔ آرے رحم کرو ان پر انکی بددعا لگ جاے تو ساری زندگی خوار گزرے گا ۔۔۔ دیکھ لو

اپنا گھر ہی ۔۔۔۔ سمینہ کا دو دفعہ نکاح ٹوٹ گیا ۔۔ تمھارا بیٹا بھری جوانی میں معزور ہو گیا ۔۔۔ کیا کبھی سوچا ہے تم نے کہ کہیں یہ ان معصوم بے زبان پرندوں کی بددعا نہ لگا ہو ۔۔۔ رفعت بیگم کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہو گل بانو ۔۔۔ رفعت بیگم نے روتے ہوۓ کہا ۔۔ ارے میرا مقصد تمھیں شرمندہ کرنا نہیں تھا ۔ بس تمھاری غلطی کا احساس دلانا تھا ۔ کہ پرندوں کو بھی بھوک پیاس لگتی ہے ۔ شکریہ بہن جی مجھے میری غلطی کا احساس دلایا آپ نے ورنہ میں بے خبری میں کتنی گنہگار ہو جاتی ۔۔۔ اوکے لیڈیز اس خوشی کہ موقع پر پارٹی ۔۔۔۔ گل لالئ اور ماریہ نے کھانے پینے کا سامان رکھتے ہوۓ کہا ۔۔ بلکل بچو ۔۔۔ ماشاﷲ گل بانو تم نے گل لالئ کی تربیت بہت اچھی کی ہیں ۔۔ گل بانو کے چہرے پر آسودہ مسکراہٹ آئی

جاری ہے۔

 

 

 

 

 

 

ہماری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ، شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔

UrduVirtualLibraryPK@gmail.com

+923114976245

ان شاءاللہ آپ کی تحریر ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

شکریہ

ادارہ : اردو ورچوئل لائبریری

۔

 

Post a Comment

0 Comments