میری گمشدہ آنکھیں
سیّدہ علیشاہ کے قلم سے
قسط نمبر 09
اردو
ورچوئل پبلشرز
ہماری ویب سائٹ پر شائع
ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا
مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی
کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور
اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ،
شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل
ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔
UrduVirtualLibraryPK@gmail.com
+923114976245
ان شاءاللہ آپ کی تحریر
ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے
لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔
شکریہ
ادارہ : اردو ورچوئل
لائبریری
میری گمشدہ آنکھیں

"'' ہسپتال
میں بیٹھ بیٹھ کر نوری کی کمر اکڑنے لگی تھی
اس نے ساتھ بیٹھے سانول کو ہلکا سا ہلایا
"کیا
ہوا نوری تجھے کچھ چاہئیے ؟" اس نے نوری کی طرف متوجہ ہو کر اس سے پوچھا
"سانول
ہماری باری کب آئے گی ؟ تو جا کر کسی سے پوچھ نا، میری کمر اکڑ گئی ہے ایسے بیٹھ بیٹھ
کے "
اس نے اپنا مسئلہ سانول کے گوش گزار کیا
"میں
کرتا ہوں پتا ، تو یہاں ہی بیٹھ"
وہ اسے وہیں مریضوں کے کمرہِ انتظار میں چھوڑ کر خود ریسپشن کی طرف چلا گیا
اس نے ریسپشنسٹ کے لکڑی سے بنے کارنر
کو ہاتھ سے بجا کر متوجہ کیا
"یس
پلیز ! "
اس نے گود میں رکھے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
اور پوچھا
"وہ
میں نے یہ پوچھنا تھا کہ ہماری چیک اپ کے لئے نمبر کبھی آۓ
گا ؟"
سلپ دکھائیں اپنی ، ریسپشنسٹ نے اسے
سلپ دکھانے کا کہا
سانول نے جلدی سے قمیض کی جیب سے کاغذ
کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکال کر اس کی جانب بڑھایا
جسے ریسپشنسٹ نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے
ہی لے لیا
"ابھی
دو پیشنٹس اور ہیں آپ سے پہلے پھر آپ کی باری ہے ، آپ کو کچھ دیر مزید انتظار کرنا
پڑے گا"
اس کی سلپ واپس کرتے ہوئے اس نے اسے
بتایا اور دوبارہ سے اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گئی
اور سانول وہاں سے واپس نوری کے پاس
چلا آیا
"کیا
کہتے ہیں ڈاکٹر کب دیکھے گا ؟؟ "اس
نے سانول کی خوشبو محسوس کرتے ہی سوال کیا
"بس
دو ایک مریض اور ہیں اس کے بعد تیری باری ہے
بس دعا کر اللہ کرم کرے اپنا" ،
اس نے نوری کے پاس ہی بیٹھتے ہوئے جواب دیا
جبکہ نوری ایک سرد آہ بھر کے رہ گئی
جانے وہ کیا دعا کرتی ، جب اس کا دل ہی
انجانے اندیشوں میں گھر گیا تھا اور اسے ان اندیشوں کا کوئی سرا بھی نہیں مل رہا
تھا
"نوری
بنتِ حوا ۔۔۔۔۔۔" اس کا نام پکارا گیا
"چل
نوری اپنا نمبر آ گیا ہے "سانول نے نوری کے نام کی پکار سنتے ہی اس کو کلائی
سے پکڑ کر اٹھایا اور ڈاکٹر کے کمرے کی
طرف چل پڑا ۔۔۔۔ اس کے ایک ہاتھ میں نوری
کا ہاتھ اور دوسرے میں نوری کی آنکھوں کے ٹیسٹوں کی رپورٹس تھیں
"ڈاکٹر
سرجن عبدالہادی "' اس نے کمرے کے دروازے پر لگی ڈاکٹر کے نام کی تختی پڑھی اور اندر داخل
ہو گیا
نوری اس کے عقب میں کھڑی تھی جبکہ
ڈاکٹر عبدالہادی اپنی ریولوننگ چئیر پر کمرے کے داخلی دروازے کی جانب پشت کئے
کسی مریض کی آنکھوں کی رپورٹس دیکھنے
منہمک تھا
"اسلام
علیکم! "سانول نے اسے با آواز بلند
سلام کیا تو اس کا انہماک ٹوٹا ، اس نے اپنی کرسی سامنے کی طرف حرکت دی اور آنے والے نئے مریض کو جواب دیا
سانول نے نوری کی رپورٹس کی فائل اس
کے سامنے میز پر رکھ دی
"یہ
میری زوجہ ہے نوری اور یہ اس کی فائل "اس نے نوری کا تعارف عبدالہادی سے کروایا..
عبدالہادی کی جیسے ہی نوری پر نظر پڑی وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا
وہ ناقابلِ یقین نگاہوں سے نوری کو دیکھتا
ہی رہ گیا
اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو
چکی تھی
اسے سب کچھ اپنی نظر کا دھوکہ ہی تو لگ رہا تھا مگر وہ کوئی دھوکہ نہیں تھا حقیقت تھی اور حقیقت
بھی اس کی زندگی کی سب سے تلخ ترین حقیقت
.........
وہ ملول سی حالت میں میں اپنے نیم تاریک کمرے اپنے بیڈ سے پشت لگائے اپنے نصیب کے فیصلے کے
بارے سوچ رہی تھی
وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ رہی
تھی وہ اپنے ہاتھوں میں اس لکیر کو تلاش کر رہی تھی جو عبدالہادی کے نام کی تھی ، وہ لکیر جو عبدالہادی کو ہمیشہ کے لئے اس کا
کر سکتی تھی مگر فیصلہ عبدالہادی کے ہاتھ
میں تھا ، آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کے ہاتھوں کی لکیروں کی بھول بھلیوں میں
گم ہوتے چلے گئے اسی پل عمارہ بیگم دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر اندر چلی آئیں
۔۔۔۔۔ ہاتھ میں پکڑی کھانے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ اس کے پاس بیٹھ گئیں
"عنایا
بیٹا کھانے کے لئے کیوں نہیں آئی ؟؟"
انہوں نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
"وہ
مجھے بھوک نہیں تھی اس لئے نہیں آئی "
اس نے اپنی نم پلکوں کو ان سے چھپانے
کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا
"اچھا
۔۔۔۔ تو صبح بھی بھوک نہیں اب بھی بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ عنایا ! یہاں دیکھو ، میری طرف
یوں نگاہیں چرانے سے کچھ نہیں ہوتا
محبت کے دور سے ہم سب گزرتے ہیں ، اس
کا مطلب یہ نہیں ہم سب سے چھپتے پھریں ۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں عبدالہادی کے لئے
تمہارے جذبات "
وہ محبت سے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے
گویا ہوئیں
عنایا ان کی بات سن کر خود پر قابو نہیں
رکھ سکی اور روتی ہوئی ان سے لپٹ گئی
عمارہ بیگم اپنی گود میں اس کا سر رکھے پیار سے اس کے
بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی
"مجھے
بہت ڈر لگ رہا ہے ممانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے نصیب سے "، اس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
"پاگل
نہیں بنتے عنایا بیٹا ۔۔۔۔۔ ہمت سے کام لیتے ہیں
نصیب کا تو کسی کو کچھ پتا نہیں ہوتا
مگر دعا کاتب تقدیر ہے
اللہ سے دعا کرو ، وہ سنتا ہے ، عطا
کرتا ہے
اور گبھراؤ نہیں
عبدالہادی نے سوچنے کے لئے وقت مانگا
ہے اور اچھا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے
جلد بازی کے فیصلے بعد میں تکلیف کا
باعث بنتے ہیں اور یہ بات میں سب سے زیادہ اچھے سے سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ میں نے
سہا ہے یہ دکھ عنایا
اور رہی بات عبدالہادی کی تو وہ بڑوں
کے فیصلے کے خلاف نہیں جائے گا مجھے یقین ہے
بیٹا ہے وہ میرا ، بہت اچھے سے جانتی
ہوں اسے
وہ کبھی بھی میرا سر نہیں جھکنے دے گا
اور اللہ جو بھی کرے گا تم دونوں کے
لئے اچھا ہو بس".. ، وہ رسان سے سمجھاتے ہوئے بولیں
"اب
اٹھو اور کھانے کھاؤ
"
انہوں نے اسے پیار سے کہا
" ممانی ! "
"جی
بیٹا "
"عبدالہادی
بھی مجھے چاہتا ہے نا ؟؟؟؟!"
بے حد ٹوٹتے سے لہجے میں اس نے عمارہ
بیگم سے پوچھا
عمارہ بیگم اسے اس سوال کا کوئی جواب
نہ دے سکیں کچھ پل چپ چاپ اس کی چہرے پر
چھایا حزن و ملال دیکھتی رہیں اور اسے سر
پر پیار دے کر وہاں سے چلی گئیں
کیونکہ جس سوال کا جواب انہیں خود پتا
نہیں تھا وہ اسے کیا جواب دیتیں
ان کے جانے کے بعد عنایا پھر سے اپنے
ہاتھوں کی لکیروں میں الجھنے لگی اس کی دعا تھی کہ عبدالہادی اس کا نصیب بنے مگر
وہ اسکی محبت کو اپنے نصیب میں پانے کی دعا بھول گئی تھی وہ بس اپنی محبت کو پا لینا چاہتی تھی اور یہی
اس کی بھول تھی ہم رب سے اس کی شان کے مطابق نہیں اپنی اوقات کے مطابق مانگتے ہیں
اور پھر ملتا بھی بس وہی ہے جو ہم
مانگتے ہیں....
وہ اسے اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر دنگ
رہ گیا تھا ، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے
خوش ہو یا روئے ، اس پر خوشی اور غم کے
لمحے ایک ساتھ اترے تھے ، یوں بھی ہوتا ہے بھلا کسی کے ساتھ پیاسے کو کنویں کے پاس
لا کھڑا کر دیا جائے اور اس ایک بوند پانی کی اجازت بھی نہ دی جائے
اس کی دعا ضرور قبول ہو گئی تھی مگر
ساتھ ہی نئی آزمائش بھی اس کے لیے تیار کھڑی تھی
وہ کرتا بھی تو آخر کیا وہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی اپنے شوہر کے
ساتھ اسے خبر نہ تھی کہ سامنے والے کی حالت کی کہ وہ کس قدر تڑپا رہا تھا اس کے
عشق میں.... اور اب جب وہ اپنے تمام تر حسن و جمال اور طلسم کے ساتھ اس کے سامنے
موجود تھی تو وہ بے بس تھا وہ بھلا پرائی
ہستی سے کہا شکوہ کرتا جبکہ قصور
وار تو کوئی بھی نہیں تھا
وہ بھول گیا تھا اسے سامنے دیکھ
کر.... سب کچھ.... اپنی حیثیت ،اس کا شوہر اور وقت کی کمی اسے کچھ بھی یاد نہیں
تھا وہ بس اس کی آنکھوں کو اس کے سانولے چاند چہرے کو اس چہرے سے پھوٹتے نور کو دیکھتا
ہی رہ گیا تھا وہ اس لمحے کو کیا نام دیتا ، اس کی دعا تو قبول ہو گئی تھی جب ہی
تو وہ اس کے سامنے موجود تھی اس کی ساحرہ
ہاں وہ نوری تھی جو سانول کی
منکوحہ تھی مگر اس کی تو وہ ساحرہ ہی تھی پھر کیا فرق پڑتا تھا وہ اس کی تھی یا کسی اور کی ، اور پھر اس نے
اسے اپنے لیے مانگا ہی کب تھا اس نے تو بس اس سے ملنے کی آرزو کی تھی
ہو گئی تھی اس کی آرزو پوری ، وہ اس
تک خود ہی آن پہنچی تھی
مگر پھر بھی اس کا دل چیخ چیخ کر رونے
کو چاہ رہا تھا
مگر وہ ضبط کی آخری حد پہ تھا کیونکہ
اسے اپنا بھرم بھی تو رکھنا تھا
کچھ پل بعد وہ خود پر قابو پا چکا تھا
اس نے سانول کو نوری کو مریض کے لئے
بنی مخصوص نشست پر بیٹھانے کا کہا اور
اپنے سرد پڑتے ہاتھوں سے ٹارچ اٹھا
کر اس کی آنکھوں کا معائنہ کرنے لگا
سانول بھی حیران سا ڈاکٹر کے عجیب سے
رد عمل کو دیکھتا رہا
اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ڈاکٹر کا یہ
رویہ مگر اس وقت اس کے لیے صرف اور صرف نوری اہم تھی.......
جاری ہے.....!!!
ہماری ویب سائٹ پر شائع
ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا
مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی
کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور
اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ،
شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل
ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔
UrduVirtualLibraryPK@gmail.com
+923114976245
ان شاءاللہ آپ کی تحریر
ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے
لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔
شکریہ
ادارہ : اردو ورچوئل
لائبریری


۔


0 Comments