Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Peer Zadi | Episode 11 | By Waheed Sultan - Daily Novels

 



 


 

 

 

 

 


پیرزادی

وحید سلطان کے قلم سے

قسط11

اردو  ورچوئل پبلشرز

 

 

 

 

 

 

 

ہماری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ، شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔

UrduVirtualLibraryPK@gmail.com

+923114976245

ان شاءاللہ آپ کی تحریر ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

شکریہ

ادارہ : اردو ورچوئل لائبریری

 

 

 


 

Text Box: وحید سلطان کے قلم سے

پیرزادی

Text Box: قسط نمبر 11

 


قطب گلیڈ فیل پارک پہنچ چکی تھی۔ آج وہ جینز اور کوٹ کے بجائے ڈھیلی ڈھالی ہلکی سبز قمیض اور سفید شلوار میں ملبوس تھی البتہ دوپٹہ گردن میں تھا۔ وہ بیچ نمبر نوے پر براجمان تھی اور دانیال کی آمد کی منتظر تھی۔

۔"عشق کو دوسرے عشق کے سوا کوئی چیز نہیں کاٹتی۔"قطب کو مولانا رومی کا ایک قول یاد آ گیا تھا۔ اسے صیح طرح تو یاد نہیں تھا کہ رومی کا یہ قول اس نے کسی کتاب میں پڑھا تھا یا پھر فیسبک کی کسی پوسٹ پر پڑھا تھا۔

۔"مطلب پہلی محبت اور اس کے زخموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے دوسری محبت کرنا ضروری ہے۔"اس نے کہنیاں گھٹنوں پر ٹکانے کے بعد دونوں ہتھیلیاں ٹھوڑی تلے رکھتے ہوئے سوچا۔

۔"سالار مغل! تم وہ کم ظرف انسان ہو جس نے کبھی بھی میری محبت کی قدر نہ کی ، تم نے میرے کردار کو نوچا اور میری محبت کی دھجیاں اڑائیں لیکن دانیال تمہاری طرح کم ظرف نہیں ہے ، وہ میری محبت کی قدر ضرور کرے گا ، وہ مجھے نہ تو ستائے گا اور نہ ہی رلائے گا ، دانیال تمہاری طرح ٹھرکی ، حوس پرست اور فلرٹی بالکل نہیں ہے اور نہ ہی اسکی لائف میں کوئی لڑکی ہے۔"قطب اپنی سوچوں میں گم ہو کر دانیال کا موازنہ سالار مغل سے کر رہی تھی جب اسکی سماعتوں سے دانیال کی بارعب آواز ٹکڑائی تھی۔ رسمی گفتگو کرتے ہوئے دانیال اسی بینچ پر قطب کے پہلو میں بیٹھ گیا تھا جس بینچ پر قطب بیٹھی تھی۔

۔"میں جانتا ہوں تم نے سالار مغل اور مشال سیما کو لڑانے کے لیے بہت بڑی سازش کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔"دانیال نے جس مدعے پر بات کرنے کے لیے قطب کو یہاں پارک میں بلایا تھا تو اس نے براہ راست اسی مدعا پر بات کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا تھا اور جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا جبکہ قطب چونکتے ہوئے اسکی جانب متوجہ ہوئی اور اسکے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔

۔"جب تم یونی میں سالار اور مشال کے ڈیپارٹمنٹ کے عقب میں پانی والی ٹینکی کے ستونوں اور سیڑھی پر پیرزادی اور چھوٹی سرکار والے اشتہارات آویزاں کر رہے تھی تب میں تمہاری وڈیو بنا رہا تھا۔"دانیال اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا تو قطب کے دماغ میں کھلبلی سی مچ گئی۔

۔"تتت ۔ ۔ ۔ ۔ تت ۔ ۔ ۔ ۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔"وہ ہکلاتے ہوئے بولی تو دانیال کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔

۔"اگر وہ وڈیو سالار مغل کے ہاتھ لگ گئی تو سوچو کیا ہو گا اور مشال سیما کو تم جانتی ہی ہو اگر وہ تمہاری دشمن بن گئی تو وہ تمہارا جینا حرام کر دے گی۔"دانیال مسکراتے ہوئے بولا۔

۔"تم کیا چاہتے ہو؟"وہ بوکھلاتے ہوئے بولی تو دانیال بے اختیار ہنسا اور پھر قطب کی جانب دیکھتے ہوئے ہنستا ہی چلا گیا تھا۔ قطب کو اس پر بہت غصہ آیا تھا لیکن وہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اس کا بہت اہم راز دانیال کے ہاتھ لگ چکا ہے اس لیے وہ اپنا غصہ ضبط کرنے پر مجبور تھی۔

۔"اگر تم مشال سیما سے میری دوستی کروا دو تو میں وڈیو تمہیں دے دوں گا اور اپنے پاس وڈیو کا کوئی بیک اپ نہیں رکھوں گا۔"دانیال قطب کو پیشکش کرتے ہوئے بولا۔

۔"تم مجھ سے دوستی کیوں نہیں کرتے؟"قطب دانیال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کرخت مگر دھیمے لہجے میں بولی تھی جبکہ دانیال کا اس بار قہقہ چھوٹ گیا تھا۔

۔"جو لڑکی سالار مغل کی ایکس گرل فرینڈ ہو اور جس لڑکی کو آوارگی کی وجہ سے اس کے والدین نے اسے عاق کر دیا ہو تو کوئی پاگل ہی ہو گا جو اس سے دوستی کرے گا۔"دانیال قطب کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔

۔"میرے زخموں پر نمک مت ڈالو اور نہ ہی میرے ماضی کو کریدو ورنہ تم جانتے ہی ہو کتنی سر پھری لڑکی ہوں میں۔"قطب دانیال کی جانب انگلی اٹھائے اسے گھورتے ہوئے تنبیہ کرنے والے انداز میں بولی تھی۔

۔"اپنی انگلی نیچے کرو ورنہ تمہاری انگلی کھا جاؤں گا اور تم چیختی رہ جاؤ گی۔"دانیال ہنستے ہوئے طنزیہ انداز میں بولا تھا جبکہ قطب آنسوؤں کا گولا نگلتے ہوئے سٹپٹا کر رہ گئی اور پھر التجائیہ انداز میں بولی۔

۔"مجھ سے دوستی کر لو نا۔"

۔"مجھے زندگی میں پہلی بار کوئی لڑکی اچھی لگی ہے اور وہ لڑکی مشال سیما ہے تم نہیں ہو۔"اب کی بار دانیال کے لہجے میں بلا کی سجیدگی تھی۔

۔"مجھے تم اچھے لگتے ہو اور صبح جب سے تمہیں بہت قریب سے دیکھا ہے تب سے ایک سحر میں مبتلا ہوں اور اپنے چہرے  پر تمہاری سانسوں کا لمس محسوس کر رہی ہوں۔"قطب نے کہا جبکہ اس کے چہرے سے بے بسی عیاں تھی۔

۔"کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارا راز سالار اور مشال کو معلوم ہو جائے اور تمہاری بربادی کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے؟"دانیال قطب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے استفہامیہ انداز میں بولا تو قطب نے نفی میں سر ہلایا۔

۔"تو پھر جو میں بول رہا ہوں وہ کرو۔"دانیال نے تحکمانہ لہجے میں کہا تو  قطب نے اثبات میں سر ہلایا۔

۔"اگر مشال سیما تمہارے پاس خود آئے اور تمہیں دوستی کے لیے بولے تو پھر تم وڈیو مجھے دے دو گے اور اپنے پاس اسکا بیک اپ بھی نہیں رکھوں گے۔"قطب مشروط انداز میں دانیال سے مخاطب ہوئی تو اس نے کہا کہ اسے قطب کی شرط منظور ہے اور پھر قطب بینچ سے اٹھی اور دانیال کی جانب دیکھے بنا ہی بوجھل قدموں کے ساتھ واپسی کے لیے چل پڑی۔ جو توقعات اس نے دانیال سے منسوب کی تھیں ان کا بوجھ اب وہ اپنے کندھوں پر محسوس کر رہی تھی۔

۔"یہ سفر محبت ہے جاناں ، اس سفر میں رکاوٹیں ، اذیتیں اور دوریاں تو ہوں گی نا۔"قطب نے سوچا اور پھر دو قدم چلنے کے بعد وہ رکی اور اس نے مڑ کر دانیال کی جانب دیکھا۔

۔"دوستی اور محبت کے نام پر دھوکے بہت کھائے ہیں ، تم لاجواب ہو تم نے انکار کیا ہے دھوکا تو نہیں دیا۔"قطب نے دانیال کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوچا اور پھر قدم آگے بڑھا دئیے۔

۔"تمہارے لہجے میں ذرہ سی بھی اپنائیت نہ تھی لیکن پھر بھی دل میں عجیب سی تڑپ ہے تمہارے لیے۔"قطب پارک سے باہر نکلتے ہوئے بھی دانیال کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

☆☆☆☆

رات کے بارہ بج رہے تھے۔ مشال سیما گلفام مغل کے کمرے کے سامنے چہل قدمی کر رہی تھی جبکہ گلفام مغل کی ملازمہ کچھ فاصلے پر ایک پلر کے پیچھے چھپ کر یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ مشال سیما بہت ہی بے چین نظر آ رہی تھی۔

کمرے کے اندر گلفام مغل بھی بے چین اور بے قرار تھا ۔ اس کا دل کا درد بڑھا تھا لیکن تھوڑی ہمت کر کے وہ بیڈ سے اٹھا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا۔ دروازے پر دستک ہوئی تو گلفام دروازے کی جانب بڑھا اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو مشال سیما سامنے کھڑی تھی۔

۔"چھوٹی سرکار آپ ۔ ۔ ۔ ۔"درد دل کی وجہ سے گلفام کا جملہ ادھورا رہ گیا تھا لیکن اس نے مشال سیما پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ اسے دل میں تکلیف ہے۔ وہ کوشش کر کے مسکرا دیا تھا لیکن اسکی یہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی دیکھ کر مشال کو عجیب سا لگا تھا اور وہ سمجھ چکی تھی کہ گلفام کے چہرے پر سجی مسکراہٹ کس قدر کھوکھلی ہے۔

۔"معذرت چاہتی ہوں آپکو ڈسٹرب کیا لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی تھی اس لیے ۔ ۔ ۔ ۔"مشال سیما نے جھجھکتے ہوئے کہا اور جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔

۔"گزشتہ رات آپ اپنی دوست کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی اور پھر پورا دن آپ نے سو کر گزارا تو اب آپکو نیند کیسے آئے گی؟"گلفام نے پوچھا۔

۔"جب سے آپکے بنگلے میں آئی ہوں تو پہلی بار آپکے کمرے میں آنے کا اتفاق ہوا ہے۔"کمرے کو طائرانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ بولی تھی اور ساتھ ہی کچھ حیران بھی ہوئی تھی کہ گلفام کے کمرے کی ترتیب وہی تھی جو مشال سیما کے کمرے کی تھی البتہ کچھ نئی چیزیں وہاں موجود تھیں جو مشال سیما کے کمرے میں نہیں تھیں۔

گلفام کے کمرے کا منظر کچھ یوں تھا کہ گلفام کا بیڈ کمرے کی مشرقی دیوار کے ساتھ نصب تھا جبکہ بیڈ کراؤن جنوبی دیوار کے ساتھ تھا۔ مغربی دیوار کے ساتھ ٹی وی اسکرین نصب تھی جبکہ اسکرین کے عین نیچے میز پر لیپ ٹاپ پڑا تھا۔ اسی جانب کونے میں کینوس اور پینٹنگ کا باقی سامان پڑا تھا۔ شمالی دیوار کے مغربی کونے میں دروازہ نصب تھا جبکہ مشرقی کونے میں ایک بڑی سیف الماری مع مرر پڑی تھی جبکہ کمرے کے وسط میں ایک شاندار سا صوفہ پڑا تھا۔

گلفام نے مشال کو صوفے پر بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا تو وہ گلفام کی جانب متوجہ ہوئی اور صوفے پر بیٹھنے کے بعد وہ گلفام کی جانب دیکھ رہی تھی کہ گلفام دو قدم چل کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس نے مشال سیما کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے اور گلفام کے اس عمل پر وہ حیرت زدہ ہو کر صوفے سے اٹھ گئی۔

۔"یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟"مشال سیما نے متحیر لہجے میں پوچھا تو گلفام نے دل پر ہاتھ رکھا اور درد کی شدت سے تڑپنے لگا۔ وہ فرش پر گرنے لگا تھا کہ مشال سیما نے گلفام کو سہارا دینے کے لیے پوری قوت لگا دی تھی اور اسے بیڈ کی جانب لے گئی۔ گلفام کو بیڈ پر لٹانے کے بعد وہ گلاس میں پانی لے آئی تھی۔

۔"انہیں اسپتال لے کر جانا ہو گا ، آپ میری مدد کریں۔"جب مشال سیما گلفام کو پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی تب عقب سے گلفام کی ملازمہ بولی تھی۔

☆☆☆☆

گلفام مغل کو پرائیویٹ اسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ جب سے مشال سیما کو یہ معلوم ہوا تھا کہ گلفام کو ہارٹ اٹیک آیا ہے تب سے وہ کوریڈور میں ایک کونے میں فرش پر بیٹھی تھی اور گلفام مغل کی صحتیابی کے لیے مسلسل دعا مانگ رہی تھی۔ گلفام کی ملازمہ نے اس کے دوست شرافت شرفی کو فون پر اطلاع دے دی تھی کہ گلفام کو ہارٹ اٹیک آیا ہے۔ شرافت صاحب گلفام کے بھتیجے سالار مغل کو اپنے ساتھ اسپتال لے آیا تھا۔ مشال سیما دعا سے فارغ ہوئی تو اس نے دور سے سالار مغل کو دیکھا۔ نیند کی وجہ سے مشال سیما کا برا حال ہو رہا تھا اور وہ اس وقت سالار مغل کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی تو اس نے دوپٹے سے چہرے کا پردہ کیا تاکہ سالار مغل اسے پہچان نہ سکے۔ جب سالار مغل ملازمہ سے اپنے چچا گلفام مغل کی طبعیت کے بارے میں دریافت کر رہا تھا کہ مشال سیما اس کے پاس سے گزر گئی۔ سالار مغل کو شبہ ضرور ہوا تھا کہ کوئی جانی پہچانی سی لڑکی اس کے پاس سے گزری ہو تاہم اسے اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ کون تھی۔

مشال سیما اسپتال سے باہر آئی تو اس کا فون بجنے لگا تھا۔ قطب کی کال آ رہی تھی۔ مشال نے کال اٹینڈ کی اور قطب کو بتایا کہ آج پھر وہ پوری رات سوئی نہیں تھی اس لیے جب وہ سو کر اٹھے گی تو پھر اس سے ملاقات کرے گی۔ کال منقطع کرنے کے بعد مشال نے رکشہ والا سے کرایہ طے کیا اور گلفام صاحب کے بنگلے کی جانب روانہ ہو گئی۔

☆☆☆☆

پیر ابدالی اپنی بیوی فہمیدہ کے بالوں کو تیل لگا رہا تھا جب فیروزہ نے آ کر بتایا کہ نور ملاقات کے لیے آئی ہے تو پیر ابدالی نے کہا کہ اسے بولو انتظار کرے۔

۔"پیر صاحب! وہ آپ سے نہیں بلکہ مرشد بی بی سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔"فیروزہ فہمیدہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تو فہمیدہ نے کہا کہ اسے اندر آنے دو۔

فیروزہ کمرے سے باہر گئی اور مودبانہ انداز میں نور بنت نذیر کو پیر ابدالی کے کمرے میں جانے کے لیے اشارہ کیا تو نور گردن اکڑائے شاہانہ انداز میں کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ مسکرانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن جب اس نے یہ منظر دیکھا کہ پیر ابدالی اپنی بیوی فہمیدہ کے بالوں کو تیل لگا رہا تھا تو وہ بے اختیار ہو کر مسکرا پڑی۔

۔"ہماری بھتیجی ۔ ۔ ۔ ۔"فہمیدہ بولی ہی تھی کہ نور بنت نذیر نے اپنی بات شروع کر دی اور فہمیدہ کی بات ادھوری ہی رہ گئی۔

۔"چچی جان! آپ کے لیے ایک بری خبر لائی ہوں۔"نور بنت نذیر مسکراتے ہوئے بولی تو فہمیدہ نے پیر ابدالی کا ہاتھ اپنے بالوں سے الگ کیا اور کرسی سے اٹھنے کے بعد نور کے روبرو کھڑی ہو گئی۔

۔"کونسی بری خبر؟"اپنی بائیں آئیبرو اوپر تک کھینچتے ہوئے رعب بھرے لہجے میں فہمیدہ نے پوچھا۔

۔"آپ کی صاحبزادی مشال سیما ۔ ۔ ۔ ۔"نور نے کہا اور جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

۔"کیا ہوا میری بیٹی کو؟"فہمیدہ نے شاکڈ ہوتے ہوئے پوچھا تو نور بنت نذیر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔

☆☆☆☆

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہماری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ، شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔

UrduVirtualLibraryPK@gmail.com

+923114976245

ان شاءاللہ آپ کی تحریر ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

شکریہ

ادارہ : اردو ورچوئل لائبریری

۔

 

Post a Comment

0 Comments