عشق یزداں
گوہرارشد کے قلم سے
قسط4
اردو
ورچوئل پبلشرز
ہماری ویب سائٹ پر شائع
ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا
مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی
کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور
اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ،
شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل
ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔
UrduVirtualLibraryPK@gmail.com
+923114976245
ان شاءاللہ آپ کی تحریر
ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے
لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔
شکریہ
ادارہ : اردو ورچوئل
لائبریری
عشق یزداں

ان کی حالت غیر ہوگئی۔مجھ نہیں لگتا تھا،کہ وہ اس سب کو
بیان کرنے کے بعد مزید کچھ کہنے کے قابل ہیں،اداسی ان کے چہرے سے پوری طرح عیاں
تھا،مجھ نہیں لگتا کہ ہر بار کچھ بولنے یا بتانے کے لیے الفاظ کی ضرورت ہوتی
ہے،بعض دفعہ آپ کے حصے کا آدھے سے زیادہ کام آنکھیں کر جاتی ہیں۔وہاں بھی صورت حال
کچھ ایسے ہی تھی۔الفاظ اپنی اہمیت کچھ موقعوں پر کھو ہی دیتے ہیں،یا آپ یوں بھی
کہہ سکتے ہیں کہ الفاظ اس طرح سے جذبات کا حق ادا نہیں کر پاتے جیسے ان کو کرنا چاہیے
تو ان کی قدر و منزلت کم ہو جاتی ہے،جب سے انھوں نے کہانی مکمل کی۔تب سے انھوں نے
میری طرف نہیں دیکھا،دس منٹ تک وہاں موجود رہی،ان کے تذبذب کو میں نے یوں محسوس کیا
کہ وہ کبھی اپنے سر کو پکڑتی،کبھی ہاتھوں کو ادھر اُدھر،ان کی کوشیش تھی کہ اب وہ
چھت سے نیچے جائے،لیکن کہہ نہیں رہی تھی؟
چھت کے اوپر جہاں ہم موجود تھے،وہاں
اک چارپائی اور دو تین کرسیاں موجود تھی،میں کرسی کے اوپر بیٹھا ہوا تھا۔اور آپی
چارپائی پر موجود تھی،آپی پچھلے دس منٹ سے بلکل خاموش تھی،ان کے خیالات کی دنیا بڑی
وسیع تھی،دس منٹ کیا دس گھنٹے بھی آپی خاموش رہ سکتی تھی؟اور اک میں دو منٹ نہ کوئی
بولے تو مجھے گبھراہٹ شروع ہو جاتی ہے،موسم کے اندر اک دم سے تبدیلی آنا شروع ہو
گئی،جیسا کہ ظہر کے بعد اکثر وبیشتر ہوتا ہے،معمولی سی ہوا کے اندر تبدیلی اور
دھوپ کا اپنی جگہ قائم ہونا،جسم و جاں کو پرسکوں کر رہا تھا،چھت کے اوپر کپڑے دھو
کر لٹکانا عام سی بات تے تھی،امی جلدی سے اوپر آئی،آپی کو بولا کے کپڑے لے کر جلدی
نیچے آؤ۔ہوا کی وجہ سے کپڑے اڑ کر کہیں اور چلیں جائے گے،اور کیا پتہ بارش بھی
ہونے والی ہو؟؟؟اس لیے جلدی کرو کپڑے لے کر دونوں نیچے آؤ،امی کی بات سن کر آ پی
جلدی سے اٹھی،کپڑے سمیٹنے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئی،چلو چلیں،میں نے کہا آپ چلیں میں
چارپائی لے کر آتا ہوں؟
آپی سیڑھیاں سے نیچے جاتے ہوئے بولی
اچھا ٹھیک ہے آ جاؤ لیکن جلدی آنا میں نے کھانا نہیں کھایا اور تم نے بھی ابھی تک
نہیں کھایا ہو گا،آ جاؤ کھاتے ہیں۔
ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا میں آیا آپ
چلیں،وہ چلی گئی،
میں نے پیچھے سے آواز دی آپ کھانا گرم
کر دے اتنی دیر میں؟
ٹھیک ہے بھائی آ جاؤ۔میں گرم کرتی
ہوں۔
میں نے چارپائی پہلے نیچے چھوڑی اس کے
بعد آ کر ساری کرسیاں،پھر باورچی خانے کی طرف چل دیا،آپی پہلے سے وہاں موجود کھانا
کھا رہی تھی،امی نے ان کو کھانا بھی گرم نہیں کرنے دیا امی شفق آپی کا بے حد خیال
رکھتی تھی،اس قدر محبت و شفقت کی وجہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی،ان کی اس قدر محبت
کی وجہ کیا تھی،شاید امی کی کوئی اپنی بیٹی نہیں تھی اس لیے ؟میرے نزدیک اک عورت
کا سب سے زیادہ خوب زیور اس کا خلوص و محبت اور ہمدردی ہوتا ہے۔جس عورت کے اندر کسی
دوسری عورت کے لیے احساس نہیں میں اس عورت کو نامکمل سمجھتا ہوں۔
آج ابو بھی وقت سے پہلے آ گے تھے اور
کھانے کی میز پر موجود تھے۔ابو اور آپی دونوں کھانا کھانے میں مصروف تھے۔مجھے دیکھتے
ہی ابو بولے
السّلام و علیکم بیٹا کیسے ہو؟ان کے
انداز سے مجھ کچھ مزاح محسوس ہوا،آپی بھی میری طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکرائی پھر
دوبارہ سے کھانا کھانے میں مصروف ہوگئی۔
میں نے کہا وعلیکم السلام بلکل ٹھیک،مجھے
کیا ہو گا ،ابو کو لگا شاید مجھے برا لگا ہے اس لیے اس طرح کی بات کر رہا ہوں،
ابو بولے بیٹا الحمدللہ کہتے ہیں،اور
رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے اچھی صحت دی،
آپی بھی حمایت میں بول پڑی ہاں ابو آپ
ٹھیک کہہ رہے ہیں ہمیں ہر وقت اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے جو ہم کو اپنی بیش
بہا نعمتوں سے نوازتا ہے۔
میں نے ہاں کہا اور بیٹھ گیا،
امی کھانا دے دے کیا پکا ہے؟
امی نے وہی سے جواب دیا سبزی بنی ہوئی
ہے،میں لاتی ہوں۔
ابو مسلسل مجھے دیکھے جا رہے تھے جیسے
کچھ کہنا چاہتے ہوں
میں نے پوچھا آج آپ جلدی واپس آ گئے؟
وہ بولے کیوں نہیں آ سکتا؟وہ کچھ خفا
سے لگے مجھے
نہیں نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا،آپ
بلاوجہ خفا ہو رہے ہیں،میرا کہنے کا مطلب ہے کہ اکثر آپ رات دیر سے آتے ہیں،تو آج
جلدی کیسے آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟
نہیں تو میں خفا نہیں ہوں،روز روز
دفتر کے کام اور آج کافی عرصے کے بعد دل کیا کہ وقت سے پہلے چھٹی کر کے گھر چلوں
اور تم لوگوں کے ساتھ وقت گزارو۔کیوں کچھ غلط کیا؟؟
توبہ توبہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں
کہا بلکل میں تو بہت خوش ہوں،آج ہم سب اکٹھے ہیں،اتنے میں امی سبزی اور روٹی لے آئی،میرے
لیے امی ہمیشہ تین روٹیاں لاتی ہیں،اور میں صبح دوپہر شام تین تین روٹیاں ہی کھاتا
ہوں،گول میز کے چار طرف ہم موجود تھے،
آپی نے کہا آج دیکھے ناں کتنا اچھا
موسم ہے،کہیں چلتے ہیں؟
میں آپی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ہاں
کیوں نہیں،آج ہم سب اکٹھے ہیں تو سامنے پہاڑی پر چلتے ہیں،20٫25منٹ کا فاصلہ
ہے،تھوڑی دیر گھوم کر واپس آ جائے گے،ابو کو ویسے بھی بہت شوق تھا گھومنے پھرنے
کا۔اس جگہ پر ہم کو رہتے ہوئے بیس سال ہو گئے تھے،لیکن کبھی موقع ہی نہیں ملا کہ
اس سامنے والی پہاڑی تک ہو آئے،ابو کا تو یقین تھا کہ وہ مان جائے گے لیکن امی کا
ڈر تھا کہ وہ نہ کچھ کہہ دے اور وہی ہوا۔
امی جلدی سے بولی کیا ہے وہاں؟کیا
کرنا ہے ادھر جا کر آرام سے گھر پر رہو؟
اب بو بھی خاموش میں بھی خاموش دونوں
اک دوسرے کو دیکھتے جا رہے تھے۔ابو نے بات کو گھومتے ہوئے شفق کہہ رہی ہے تو میں
بھی راضی ہوں وہ کافی ٹائم سے یہاں پر ہے میں اس کی وجہ سے مان گیا ورنہ مجھے بھی
کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے؟
ابو شفق آپی کو اشارہ کرتے ہوئے تم
کچھ بولو
سب کو پتہ تھا امی ان کی بات سے انکار
نہیں کرے گی۔
شفق آپی نے کہا ہاں امی ہم جانا چاہتے
ہیں آپ نے چلنے ہے تو چلیں ہم نے تو جانا ہے بس
امی تھوڑی ناراض ہو کر بولی آپ لوگ
جائے میں نہیں چلتی مجھے بہت سے کام ہیں۔
شفق آپی نے ان کو ناراض دیکھ کر گلے
سے لگایا اور بولی پلیز آپ بھی آ جائے اگر آپ ناراض ہیں،تو میں بھی نہیں جاتی۔
نہیں نہیں بیٹا میں ناراض نہیں ہوں آپ
جاؤ،میں نے نہیں چلنا تمہارا بھائی اور ابو کو ہی زیادہ شوق ہے گھومنے پھرنے کا
مجھ نہیں ہے؟
ابو جھٹ سے بولے یہ کیا بات ہوئی اب
تو اس کو بھی چلنا پڑے گا۔
آپی بولی آپ لوگ لڑے تو ناں
ناں۔۔۔۔۔۔سب اکٹھے چلیں گئے۔اور امی آپ کھانے کی بلکل پریشانی نہ کرے،عاصم کھانا
لے آئے گا بازار سے کیوں ابو ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ میں
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں آپ کی بات
بلکل ٹھیک ہے عاصم لے آئے گا کھانا،کیوں عاصم بیٹا؟
ہاں ہاں کیوں نہیں مجھے کیا پریشانی
ہے۔۔۔پیسے آپ دے رہے ہیں تو۔مزاحیہ موڈ میں نے کہا
پھر ٹھیک ہے مجھے کیا پریشانی ہے میں
بھی چلتی ہوں،امی کچھ سکون میں ہو کر بولی
عاصم بیٹا تم ابھی جاؤ ناں بازار سے
لے آؤ ہم تب تک تیار ہو جاتے ہیں،کھانا بھی ساتھ لے چلیں گے۔
ابو نے سب سے پوچھا کوئی چیز چاہیے ہو
تو بتائیں عاصم بازار سے لے آئے گا؟
انھوں نے کہا کچھ نہیں ضرورت
ابو نے پوچھا کھانے میں کیا منگوانا
ہے میرے خیال سے بریانی ٹھیک رہے گی آپ کیا کہتی ہو شفق؟
ہاں میرے خیال سے بھی بریانی ٹھیک ہے
امی کو بہت پسند ہے اور عاصم کی تو بات ہی مت کریں۔
ٹھیک ہے عاصم تم میرے ساتھ آؤ میں تم
کو سامان بتاتا ہوں لے آؤ بازار سے جلدی آو
سارا سامان بتانے اور پیسے دینے کے
بعد ابو نے تمہارا دوست آیا ہوا ہے گاڑی لے کر ۔۔۔کہہ رہا تھا واپس کھانا کھا کر
جلدی جاؤں گا کام ہے تم جلدی جاؤ اس کے ساتھ چلے جانا واپسی پر کوئی گاڑی مل جائے
گی۔
ہمارے گھر سے اس کے گھر تک 10منٹ کا
فاصلہ تھا۔لیکن خوشی میں بہت جلد پہنچ گیا۔اس کے گھر کے قریب آیا تو وہ گاڑی باہر
نکال رہا تھا۔اس کا نام ریشم تھا۔اس کی دو بہنیں اور دو بھائی تھے۔وہ سب سے بڑا
تھا۔آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ریشم کیا نام ہوتا ہے؟؟
میں نے بھی بہت بار اس سے پوچھا لیکن
اس نے کوئی معقول جواب نہ دیا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ریشم نام رکھنے
والے سے اس کو ریشم کی طرح نرم وملائم محسوس کیا ہو گا۔ریشم انتہائی مخلص اور
ہمدرد دوست تھا میرا۔انجم کے بعد اگر میں کسی کو اپنا دوست مانتا تھا تو وہ ریشم ہی
تھا۔وہ دس سال کا تھا جب اس کے ابو کی اک حادثے میں موت ہوگی۔تب سے اب تک تقریباً
12 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔وہ مسلسل محنت کرکے گھر والوں کی پرورش کر رہا ہے۔اپنی
معصومیت اور خواہشات کو پس پردہ ڈال ان کی خوشیاں میں جی رہا ہے۔میرا ہر حوالے سے
خیال رکھتا ہے۔شفق آپی اور ریشم کی وجہ سے کبھی مجھے بہن بھائی کی کمی محسوس نہیں
ہوئی۔دونوں ہی میرے ہر دلعزیز ہیں۔مجھے دیکھتے ہی خوشی سے جھوم اٹھا۔اس نے اپنی
محنت سے سات لاکھ کی گاڑی لی ہوئی تھی۔
السلام و علیکم عاصم کیسے ہو۔گاڑی کا
دروازہ کھولتے ہوئے اس نے کہا
وعلیکم السلام شکر ہے اللہ پاک کا۔آپ
سناؤ کیسے ہو۔کدھر تھے اور اب واپس کدھر جا رہے ہو
میں بھی بلکل ٹھیک اللہ تعالیٰ کا
احسان ہے،کدھر جاؤں گا میں ادھر ہی ہوں پہلے بازار کے دو چکر لگائے اب کی بار
دوسرے محلے سے اک صاحب فون کر رہے ہیں ان کا کچھ سامان ان کے گھر دینا ہے پھر واپس
اچھا تم بتاؤ اتنی دیر سے بازار کیوں
جارہے ہو خیریت ہے ناں تمہارے ابو تو میرے ساتھ آئے تھے اگر کچھ کام ہے تو مجھے
بتا دو میں کر دوں گا؟؟
میں گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا
نہیں نہیں یار کچھ خاص مسئلہ نہیں ہے بس ویسے ہی کچھ چیزیں چاہیے تو جا رہا ہوں
ابو نے ہی تمہارا بتایا کے تم آئے ہوئے ہو تو میں بھاگ کر آ گیا۔اچھا یہ بتاؤ تم
واپس کتنی دیر میں آؤ گے؟؟گاڑی چلنا شروع ہوگئی ہلکی ہلکی رفتار کے ساتھ ریشم گاڑی
کو بازار کی جانب موڑتے ہوئے بولا
بس یہ ہی کچھ آدھے گھنٹے تک مجھ بھی
ان صاحب کا سامان دینا ہے بس سامان پیک ہے بس وہاں سے گاڑی میں ان کو دے کر واپس
گھر؟؟تم بازار میں سامان لینا میں ان کے گھر سامان دے کر آ جاؤں گا پھر اکٹھے آئے
گے۔بازار سے پانچ منٹ کا فاصلہ ہے ان کے گھر کا
اچھا ٹھیک ہے میں بازار میں سامان لے
کر انتظار کروں گا تم آ جانا پھر اکٹھے آئے گے واپس ۔
اچھا اور سنوں کہاں مصروف ہو آج کل
بہت کم نظر آتے ہو خیر تو ہے ناں ؟؟
ہاں خیر ہی ہے بس کچھ کام کاج ابھی
تھوڑا زیادہ ہے پتہ ہی نہیں چلتا کب دن ہوتا ہے کب رات؟
اور گھر کے معمولات بھی بڑھتے ہی چلے
جاتے ہیں سو اپنے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔جب کبھی فروغ ہوا تو آؤں گا آپ کی طرف
جاری ہے.....!!!

ہماری ویب سائٹ پر شائع
ہونے والے ناولز کے تمام جملہ و حقوق بمعہ مصنف / مصنفہ محفوظ ہیں ۔ انہیں ادارے یا
مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے پر آپ کے خلاف قانونی کارروائی
کی جاسکتی ہے ۔ ہمیں پہلی اردو ورچوئل لائبریری کے لیے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور
اگر آپ ہماری لائبریری میں اپنا ناول ، ناولٹ ، ناولہ ، افسانہ ، کالم ، مضمون ،
شاعری قسط وار یا مکمل شائع کروانا چاہتے ہیں تو اردو میں ٹائپ کر کے مندرجہ ذیل
ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بھیج دیجیے ۔
UrduVirtualLibraryPK@gmail.com
+923114976245
ان شاءاللہ آپ کی تحریر
ایک ہفتے کے اندر اندر ویب سائٹ پر شائع کردی جائے گی ۔ کسی بھی قسم کی تفصیلات کے
لیے اوپر دیے گیے ذرائع پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔
شکریہ
ادارہ : اردو ورچوئل
لائبریری
۔


0 Comments